Please enable JavaScript to view this page content properly.
Sunday, April 29, 2012
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
Sura: Al-Kahf (18)Aya,74,75,76
فَانطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا
قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا
قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا
پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہے،
(خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گے،
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیں،
So, they moved ahead until when they met a boy, he killed him (the boy). He (Musa) said, :Did you kill an innocent soul while he did not kill anyone? You have committed a heinous act indeed.
He said, :Did I not tell you that you can never bear with me patiently?
He (Musa) said, :If I ask you about something after this, do not allow me your company. You have now reached a point where you have a valid excuse (to part with me) from my own side. :
ف٩ ایک گاؤں کے قریب چند لڑکے کھیل رہے تھے، ان میں سے ایک کو جو زیادہ خوبصورت اور سیانا تھا پکڑ کر مار ڈالا۔ اور چل کھڑے ہوئے بعض روایات میں اس کا نام جیسور آیا ہے۔ وہ لڑکا بالغ تھا یا نہیں؟ بعض کا قول ہے کہ بالغ تھا اور لفظ غلام عدم بلوغ پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن جمہور مفسرین اس کو نابالغ ہی بیان کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
ف١٠ یعنی بےگناہ۔ جب تک لڑکا بالغ نہ ہو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ لفظ بظاہر اس کے نابالغ ہونے کی تائید کرتا ہے۔ اگرچہ دوسروں کے لیے تاویل کی گنجائش ہے۔
ف١١ یعنی اول تو نابالغ قصاص میں بھی قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر مزید یہ کہ یہاں قصاص کا بھی کوئی قصہ نہ تھا۔ پھر اس سے بڑھ کر معقول بات کون سی ہوگی۔
ف١ کیونکہ ایسے حالات و واقعات دیکھنے میں آئیں گے جن پر تم خاموشی کے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ آخر وہی ہوا۔
ف٢ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اندازہ ہوگیا کہ حضرت خضر علیہ السلام کے تحیر خیز حالات و واقعات کا چپ چاپ مشاہدہ کرتے رہنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔ اس لیے آخری بات کہہ دی کہ اس مرتبہ اگر سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ایسا کرنے میں آپ معذور ہوں گے اور میری طرف سے کوئی الزام آپ پر عائد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ تین مرتبہ موقع دے کر آپ حجت تمام کر چکے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2506 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 2 بدون مکرر
حسن بن علی حلوانی عمرو بن عاصم، ہمام اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد (کے جرم تک) پہنچ گیا ہوں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد قائم فرمائیں نماز کا وقت ہوگیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز اداء کی جب نماز پوری کر چکا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ میرے بارے میں اللہ کا فیصلہ قائم کریں آپ نے فرمایا کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھا اس نے عرض کیا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق تجھے معاف کیا جا چکا۔
Anas reported that a person came to Allah's Apostle (may peace be upon him) said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of 'hadd', so impose it upon me according to the Book of Allah. Thereupon he said: Were you not present with us at the time of prayer? He said: Yes. Thereupon he said: You have been granted pardon.
Please. Forward to Others
Sadaq Allah ul Azeem
Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah